Home / Uncategorized / گولڈ سمتھ کو دشنام طرازی پر مبنی جارحانہ انتخابی مہم چلانے کا مشورہ کس نے دیا؟
گولڈ سمتھ کو دشنام طرازی پر مبنی جارحانہ انتخابی مہم چلانے کا مشورہ کس نے دیا؟

گولڈ سمتھ کو دشنام طرازی پر مبنی جارحانہ انتخابی مہم چلانے کا مشورہ کس نے دیا؟

13181084_1691047161149980_1333679236_n

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

معلوم نہیں کنزر ویٹو پارٹی کی قیادت ادر زیک گولڈ سمتھ کو یہ مشورہ کس بزرجمہر نے دیا تھا کہ اگر وہ اپنے مخالف امیدوار کے خلاف دشنام طرازی اور الزام تراشی پر مبنی جارحانہ انتخابی مہم چلائیں گے تو وہ جیت جائیں گے لیکن یہ جس کسی کا مشورہ بھی تھا وہ برطانوی سیاست کی حرکیات کو بالکل نہیں سمجھتا تھا اور نہ برطانوی ووٹروں کی نفسیات کا کوئی ادراک رکھتا تھا۔ ایسی دشنام طرازی کا نتیجہ وہی نکلنا تھا جو نکلا کہ ارب پتی زیک گولڈ سمتھ اور لندن کی اشرافیہ کے نمائندے ایک بس ڈرائیور کے بیٹے سے ہار گئے۔ عام طور پر برطانیہ میں پاکستانی اور بھارتی کمیونٹیز ایک دوسرے کے مدمقابل رہتی ہے لیکن ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لندن میں مقیم بھارتی کمیونٹی نے جس کی تعداد پاکستانیوں سے چار گنا زیادہ ہے بڑی تعداد میں صادق خان کو ووٹ دیئے۔ ان بھارتیوں نے اس پروپیگنڈے کو نہیں خریدا جو وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور زیک گولڈ سمتھ بیچ رہے تھے کہ صادق خان میئر منتخب ہوگئے تو لندن دہشت گردوں کا گڑھ بن جائے گا۔ بھارت اور پاکستان روایتی طور پر حریف ہیں اور اس کا اثر ہر اس جگہ محسوس کیا جاتا ہے۔ جہاں جہاں پاکستانی رہتے ہیں برطانوی سیاست میں بھی عمومی طور پر بھارتیوں اور پاکستانیوں کی سیاسی لائن یکساں نہیں ہوتی لیکن یہ صادق خان کی مقبولیت کا اثر تھا کہ بھارتی باشندوں نے بھی صادق خان کو ووٹ دیا۔ صادق خان نے لندن کی بہتری کا جو منشور پیش کیا تھا وہ جیت گیا اور دشنام طرازی ہارگئی۔ کنزر ویٹو پارٹی کی بیرونس سعیدہ وارثی نے بھی انتخابی مہم کے دوران الزام تراشی کے کلچر کو پسند نہیں کیا اور کھلم کھلا کہا کہ انتخابی مہم کے دوران کنزر ویٹو پارٹی نے جو رویہ اختیار کیا اس کے جو منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ان سے چھٹکارہ پانے میں کنزر ویٹو پارٹی کو بہت وقت لگے گا۔
صادق خان نے لندن کے میئر کا حلف اٹھانے کے بعد کہا کہ لندن کا ہر شہری ان کا دوست ہے وہ ہر کسی کی بلاامتیاز خدمت کریں گے۔ جنہوں نے انہیں ووٹ دیئے اور جنہوں نے نہیں دیئے ان سب کی خدمت کروں گا۔ ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بناؤں گا۔ ملازمت کے مواقع پیدا کروں گا اور لندن کا چہرہ چمکانے کی کوشش کروں گا۔ لندن ایسا شہر ہے جہاں ہر سال 17 ملین ٹورسٹ آتے ہیں، اس لحاظ سے بین الاقوامی شہروں میں اس شہر کی حیثیت مسلمہ ہے۔ صادق خان اگر اپنے دور میں شہر کی شان و شوکت میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو برطانوی سیاست میں مزید کامیابیاں ان کیلئے چشم براہ ہوں گی۔
عمران خان نے پاکستان میں اپنی پارٹی کے کارکنوں کو بتایا تھا کہ زیک گولڈ سمتھ ان کے مشورے پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اگر اپنے سابق برادر نسبتی کو الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا تھا تو انہیں ’’جیت کی سٹریٹجی‘‘ بناکر دینی چاہئے تھی، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان لندن گئے بھی تو صرف پاکستانیوں سے یہ کہہ سکے کہ وہ زیک کو ووٹ دیں۔ لندن شہر کے ووٹروں میں اگرچہ پاکستانیوں کے ووٹوں کو اہمیت حاصل ہے لیکن اس شہر میں بھارتی اور بنگلہ دیشی بھی ہیں جن کا انتخابات کی کامیابی میں کردار اور ووٹ اہمیت رکھتا ہے۔ صادق خان انسانی حقوق کے وکیل ہیں، اس حیثیت میں انہوں نے لندن کے شہریوں میں اپنا ایک مقام بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اسی وجہ سے مقامی انگریز باشندوں میں بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
41 سالہ زیک گولڈ سمتھ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران صادق خان کو ایسا امیدوار ثابت کیا جس کی انتہا پسند اور متشدد مسلمانوں کے ساتھ ہمدردیاں ہیں۔ گزشتہ ہفتے گولڈ سمتھ نے ایک مضمون لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر صادق خان کامیاب ہوگئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ لندن کا کنٹرول ایک ایسی لیبر پارٹی کو دے دیا جائے جس کی سوچ یہ ہے کہ دہشت گرد ہمارے دوست ہیں۔ اس مضمون کے ساتھ ایک جلتی ہوئی بس کی تصویر شائع کی گئی تھی جسے 2005ء میں ایک خودکش بمبار نے تباہ کردیا تھا۔ تاہم کنزرویٹو پارٹی میں مسلمان کارکنوں نے گولڈ سمتھ کے اس نظریئے پر تحفظات ظاہر کردیئے تھے۔ سابق ٹوری وزیر سعیدہ وارثی نے ٹویٹ کیا ’’یہ وہ گولڈ سمتھ نہیں ہے جسے میں جانتی تھی‘‘۔ پولنگ والے دن بعض سینئر ٹوری ووٹروں کو گولڈ سمتھ پر غم و غصے کا اظہار کرتے دیکھا گیا جنہوں نے لکھا کہ اس کے مخالف امیدوار (صادق خان) نے ’’پلیٹ فارم آکسیجن یہاں تک کہ تحفظ‘‘ بھی ان انتہا پسندوں کو دیا ہے جو لندن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
حلف برداری کی تقریب میں صادق خان نے کہا کہ وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ وہ کبھی لندن کے میئر بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن والوں نے خوف کی بجائے امید کا انتخاب کیا۔ خوف کی سیاست کو اس شہر میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ صادق خان کی فتح سے لندن کے سٹی ہال پر آٹھ برس سے جاری کنزر ویٹو پارٹی کا راج ختم ہوگیا ہے۔ شیفیلڈ میں خطاب کرتے ہوئے لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کورین نے کہا ’’کنزر ویٹو پارٹی کے امیدوار زیک گولڈ سمتھ نے صادق خان کے خلاف کردار کشی کی مہم شروع کی اور انہیں شدت پسندوں سے جوڑنے کی کوشش کی جس سے لیبر پارٹی کو فائدہ ہوا۔ کنزر ویٹو پارٹی کی جانب سے چلائی جانے والی ’’زہریلی مہم‘‘ اور جس طرح صادق خان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی اور جو ہتھکنڈے استعمال کئے گئے اور جو زبان استعمال کی گئی اس کا انتخابات پر بہت برا اثر پڑا۔ انتخابی مہم کے دوران صادق خان پر جی بھر کر گندگی اچھالی گئی لیکن اس کے باوجود وہ دل برداشتہ نہیں ہوئے اور اپنے مثبت پیغام کے ذریعے میئر منتخب ہوگئے۔

Comments are closed.

Scroll To Top