Error. Page cannot be displayed. Please contact your service provider for more details. (11)

Home / Uncategorized / ”ہر شہری کو حکومت اڑھائی لاکھ روپے دے گی“
”ہر شہری کو حکومت اڑھائی لاکھ روپے دے گی“

”ہر شہری کو حکومت اڑھائی لاکھ روپے دے گی“

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جب کوئی ملک ترقی یافتہ، خوشحال اور خودمختار ہوتا ہے تو اس کا فائدہ اس کے ہر شہری کو پہنچتا ہے اور یہ فائدہ بھرپور طریقے سے سوئٹزر لینڈ کے شہریوں کو پہنچنے ہی والا ہے جہاں بہت جلد ریفرنڈم ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت ہر ضرورت مند شہری کو ذاتی اخراجات کیلئے ماہانہ نقد امداد دینے کی تجویز کو قانون بنایا جائے اور اگلے مہینے اس پر ووٹنگ کرائی جائے۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے سوئٹزرلینڈ اہم فیصلہ کرنے والا ہے جس کے تحت ہر بالغ اور ضرورت مند شہری کو 2500 ڈالر ماہانہ ادا کئے جائیں گے۔
معروف صحافی کامران خان نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ سوئٹزر لینڈ کا شمار دنیا کے پرامن ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ یورپ کا خوشحال ترین یہ ملک ، چاکلیٹ، گھڑیوں، بینکنگ کے نظام، صنعتوں اور سیاحتی مراکز کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ یہ ملک بین الاقوامی تنازعات سے بالکل الگ رہتا ہے اور کبھی کسی تنازع میں فریق بننا تو دور کی بات کبھی قریب بھی نہیں گیا اور یہاں کا ہر شہری پرامن زندگی گزار رہا ہے۔ اب ریفرنڈم کے ذریعے جو قانون بننے جا رہا ہے اس کے مطابق ہر بالغ شہری کو ماہانہ ڈھائی ہزار امریکی ڈالر اوربچوں کو 625 ڈالر ماہانہ امداد دی جائے گی تاکہ وہ اپنا گزارہ کر سکے اور ہر بالغ شہری اس کا اہل ہو گا۔
حکومت کی جانب سے تمام شہریوں کو ماہانہ ڈھائی ہزار ڈالر دینے کا قانون بنانے کیلئے ایک لاکھ سے زائد افراد نے دستخط کئے جس کے بعد وہاں کے قانون کے مطابق اب یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ اس پر باقاعدہ ووٹنگ کرائی جائے۔ جمہوری نظام کے لحاظ سے جمہوریت یہ فیصلہ کر رہی ہے ۔ وہاں کے شہری ٹیکس، سہولیات اور دیگر عوامی ایشوز پر ریفرنڈم کی طرز پر براہ راست ووٹنگ کے ذریعے حکومت سے قانون سازی کرا سکتے ہیں کیونکہ یہ وہاں کے نظام کا حصہ ہے، ایک لاکھ شہری اگر کسی معاملے پر اکٹھے ہوں اور دستخط کر دیں تو اس کے بعد بعد پورے ملک میں اس پر ووٹنگ کرائی جا سکتی ہے۔
گزشتہ سال سروے کے مطابق سوئٹزر لینڈ کا ہر آٹھواں شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا تھا لیکن ”معاف کیجئے گا کہ غربت ہمارے سٹینڈرڈ کی نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ کے سٹینڈرڈ کی ہے کیونکہ وہاں سالانہ 29500 ڈالر سے کم آمدنی والے افراد کو غریب تصور کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ کی آمدنی سالانہ تقریباً تیس ہزار ڈالر سے کم ہے تو پھر آپ کو غریب تصور کیا جائے گا اسی لئے سوئٹزرلینڈ نے کہا کہ ہر شخص کو ماہانہ ڈھائی ہزار ڈالر یعنی سالانہ 30 ہزار ڈالر دے دیا جائے تاکہ وہ کسی بھی اندارز سے غریب نہ کہلایا جا سکے۔
اگر یہ قانون سازی ہو گئی تو وہاں مقیم پاکستانی نژاد شہری جو ضرورت مند ہوئے وہ پاکستانی 29 لاکھ روپے سالانہ یا سوا دو لاکھ روپے ماہانہ حاصل کر سکیں گے۔ کینیڈا، نیدرلینڈز اور فن لینڈز سمیت یورپ کے کئی ایسے دوسرے ملک بھی ہیں جہاں شہریوں کو ماہانہ امداد دینے پر غور کیا جا رہا ہے لیکن سوئٹزر لینڈ تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے اور اس سلسلے میں ووٹنگ ہونے ہی والی ہے ۔

Comments are closed.

Scroll To Top