Home / Slider / ہندوستانی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد کے خلاف احتجاج
ہندوستانی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد کے خلاف احتجاج

ہندوستانی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد کے خلاف احتجاج

مظفر آباد/ راولپنڈی: ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آمد کے موقع پر ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف مظفرآباد میں بچوں نے مظاہرہ کیا۔

آزاد کشمیر کے بچوں نے ہندوستانی فوج کے فائر کیے گئے چھروں سے زخمی ہونے والوں کا روپ دھار کر احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اور ہندوستان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کشمیری بچوں نے مرکزی ایوان صحافت سے آزادی چوک تک ریلی نکالی۔

شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین بچوں نے اپنے جسم پر پٹیاں اور آنکھوں پر سیاہ چشمے لگا کر کشمیر میں فورسز کی درندگی سے متاثر ہونے والے افراد کا روپ دھار رکھا تھا۔

بچوں نے کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ہندوستانی فورسز انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، لہذا اقوام عالم کشمیر میں جاری مظالم رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

علاوہ ازیں ہندوستانی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کی پاکستان آمد کے خلاف راولپنڈی میں آل پارٹیز حریت کانفرنس نے مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔

مظاہرین نے ہندوستانی فوج کے خلاف نعرے لگائے اور ہندوستانی تسلط سے آزادی کا مطالبہ کیا۔

کشمیری نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی فیض آباد کے مقام پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے موجود تھی۔

پولیس نے مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا جہاں جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کے وزرائے داخلہ کا اجلاس جاری تھا، حزب المجاہدین کے سربراہ صلاح الدین بھی مظاہرے میں شریک ہوئے۔

اسلام آباد کے تاجروں میں بھی ہندوستانی جارحیت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے، جہاں تاجروں نے دارالحکومت کی سڑکوں پر ہندوستانی وزیرداخلہ کے خلاف بینر لگائے۔

تاجروں کا مطالبہ تھا کہ کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے سارک ممالک ہندوستان کا بائیکاٹ کریں۔

واضح رہے کہ سارک کے وزرائے داخلہ کا 2 روزہ سالانہ اجلاس اسلام آباد میں ہورہا ہے جس میں شرکت کے لیے ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی مدعو ہیں۔

یاد رہے کہ 8 جولائی کو ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر 22 سالہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں اور جھڑپوں میں 50 سے زائد کشمیری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

Utv-Lineکشمیر مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق وادی بھر میں مسلسل 25 روز سے کرفیو اور پابندیاں نافذ ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top