کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

10 اگست 1990 کو پیدا ہونے والے محمود خان اپنی صحافتی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے، 2 دن بعد ان کی سالگرہ تھی۔

ڈان نیوز کوئٹہ کے بیورو چیف سید علی شاہ نے 25 سالہ محمود خان کی ہلاکت پر شدید دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانچ وقت کے نمازی تھے، ان کے 4 بچے تھے، جبکہ ان کے بھائی کے 3 بچوں کی کفالت بھی ان ہی کے ذمہ تھی۔

سید علی شاہ نے بتایا کہ محمود خان ان کے پاس بحیثیت سیکیورٹی گارڈ آئے تھے، جہاں 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے دوران وہ تعلیم بھی حاصل کرتے رہے، پھر ہم نے انھیں نان لینیئر ایڈیٹر (این ایل ای) بنادیا اور بعدازاں انھیں بحیثیت کیمرہ مین ملازمت دے دی گئی۔

علی شاہ نے بتایا کہ محمود خان نے اسی دوران گریجویشن کی، وہ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرکے رپورٹر بننا چاہتے تھے، لیکن انھیں مہلت نہ مل سکی۔

یاد رہے کہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 54 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے۔

ڈان نیوز کے مطابق پیر 8 اگست کی صبح نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بلوچستان بار کونسل کے صدر ایڈووکیٹ بلال انور کاسی کی میت سول ہسپتال لائی گئی تھی۔

سول ہسپتال میں وکلاء کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود تھی کہ اس دوران ہسپتال کے شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ پر زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 54 افراد ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوئے۔

ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان کے علاوہ آج ٹی وی کے ایک کیمرہ مین بھی دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے، جبکہ دنیا نیوز کے رپورٹر فرید اللہ سی ایم ایچ کوئٹہ میں زیرِ علاج ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top