Home / Uncategorized / 20 مُردے پھر سے زندہ کرنے کیلئے امریکی کمپنی کے حوالے کردئیے گئے
20 مُردے پھر سے زندہ کرنے کیلئے امریکی کمپنی کے حوالے کردئیے گئے

20 مُردے پھر سے زندہ کرنے کیلئے امریکی کمپنی کے حوالے کردئیے گئے

13183228_1689724821282214_1332861497_n

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں ایسے افراد بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں زندہ قرار دیا جا سکتا ہے نہ مردہ۔ ان افراد کے دماغ مردہ ہو چکے ہوتے ہیں مگر بدن زندہ ہوتے ہیں۔ یہ سانس تو لیتے ہیں مگر ان میں زندگی کے آثار غائب ہوتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو زندہ کرنے کی کوشش کرنے کے لئے ایک امریکی طبی تحقیقاتی کمپنی کو ایک متنازعہ ترین تحقیق کرنے کا اجازت نامہ مل گیا ہے۔ بائیو کوارک(Bioquark) نامی یہ بائیو ٹیکنالوجی کمپنی ایسے مریضوں کے غیرمتشکل خلیوں(Stem Cells)کے ذریعے ان کے دماغ کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے تجربات و تحقیق کرنا چاہتی تھی۔ برطانوی اخبار ”دی ٹیلی گراف“ کی رپورٹ کے مطابق اجازت ملنے کے بعد اب بائیو کوارک آئندہ برس سے امریکہ اور بھارت میں موجود ایسے 20مریضوں پر اپنی تحقیق کا آغاز کر دے گی۔
رپورٹ کے مطابق بائیوکوارک کے سائنسدان ان مریضوں کے خام خلیات کے ذریعے ان کے عصبی نظام کو تحریک دے کر ان کے دماغ کو دوبارہ چالو کرنے پر ابھاریں گے۔کمپنی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”اگر ہم ان تجربات کے ذریعے ان مریضوں کے دماغوں کو جزوی طور پر بھی چالو کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ تاریخی کامیابی ہو گی۔“ بائیوکوارک کی اس تحقیقاتی ٹیم میں ڈاکٹر کیلیکسٹو میکاڈو بھی شامل ہیں جو علم الاعصاب کے معروف ماہر اور محقق ہیں۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کی یہ ٹیم ان مریضوں پر کئی طریقہ ہائے علاج آزمائے گی اور ہر طریقہ آزمانے کے بعد مریض کے دماغ کی فعالیت کئی ماہ تک زیرنگرانی رکھی جائے گی۔ اس کے بعد دوسرا طریقہ آزمایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین زیادہ تر توجہ ریڑھ کی ہڈی کے اوپری حصے کے علاج پر مرکوز رکھیں گے جو دماغ کا سب سے نچلا حصہ ہوتا ہے اور دل اور پھیپھڑوں کے افعال، بالخصوص دل کی دھڑکن اور عمل تنفس کو کنٹرول کرتا ہے۔بائیوکوارک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایرا پاسٹر نے اس منصوبے کے حوالے سے دی ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اس انتہائی پیچیدہ تحقیق کے لیے ہم انسانی اعضاءکو دوبارہ افزائش دینے والے حیاتیاتی طبی آلات کو پہلے سے موجود ان طبی آلات کے ساتھ مربوط کر رہے ہیں جو خاص طور پرشدید عصبی بگاڑ کا شکار افراد کے مرکزی عصبی نظام کو متحرک کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ تحقیق کے ابتدائی 2سے 3ماہ میں اس کے مثبت نتائج سامنے آنے لگیں گے۔“

 
 

Comments are closed.

Scroll To Top