Home / Uncategorized / 2015ء میں پھانسیوں میں ریکارڈ اضافہ، 1634 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا
2015ء میں پھانسیوں میں ریکارڈ اضافہ، 1634 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا

2015ء میں پھانسیوں میں ریکارڈ اضافہ، 1634 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) گزشتہ برس دنیا میں کم از کم 1634 افراد کو پھانسی دی گئی جو 2014ء کی تعداد سے پچاس فیصد زیادہ ہے اور 1989ء کے بعد پھانسی کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے نوے فیصد پھانسیاں پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں ہوئیں۔ ان میں چین میں ہونے والی پھانسیاں شامل نہیں ہیں کیونکہ انسانی حقوق کے اس ادارے پر اس ملک سے متعلقہ معلومات حاصل کرنے کی پابندی ہے جو 2009ء میں عائد کی گئی تھی۔ تاہم محققین کا خیال ہے کہ چین کی سالانہ تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ پھانسیاں ہوسکتی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا موجودہ سیکرٹری جنرل ایک بھارتی باشندہ سلیل سیٹھی ہے جس نے رپورٹ کے ساتھ اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 25 برسوں میں ایران، پاکستان اور سعودی عرب جتنے باشندے دنیا میں کہیں پھانسی نہیں چڑھے۔ ان کے تبصرے کے مطابق ’’ایک ریکارڈ توڑنے والی تعداد تک پہنچنے والی ان پھانسیوں کیلئے عام طور پر غیر منصفانہ طریقے سے مقدمے چلتے ہیں اس لیے یہ قتل عام بند ہونا چاہئے‘‘۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی براعظموں میں پھانسی کی سزا صرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں باقی ہے تاہم اس ملک میں 2015ء کے دوران 28 پھانسیاں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دسمبر 2014ء میں پھانسی کی سزا پر پابندیاں اٹھنے کے بعد 2015ء میں 320 سے زائد افراد کو پھانسی دی گئی جو اب تک ریکارڈ کی گئی بلند ترین تعداد ہے۔ ایران میں 2014ء میں 743 پھانسیوں کے مقابلے میں 2015ء میں 977 پھانسیاں دی گئیں۔ ایران میں زیادہ تر منشیات کے مجرموں کو پھانسی دی گئی جن میں چھوٹی عمر کے نوجوان بھی شامل ہیں جو رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ 2015ء میں کم از کم چار ایسے مجرموں کو پھانسی دی گئی جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم تھی۔ سعودی عرب میں 2015ء میں کم از کم 158 افراد کو پھانسی دی گئی جو 2014ء کی نسبت 76 فیصد زیادہ تعداد ہے۔ سعودی عرب میں زیادہ تر افراد کا سر قلم کیا گیا جبکہ مجرموں کو فائرنگ کرکے بھی مارا گیا اور ان کی لاشوں کی نمائش کی گئی۔

 

Comments are closed.

Scroll To Top