Home / Uncategorized / ‘اچھا تو تم طالبان ہو؟’
‘اچھا تو تم طالبان ہو؟’

‘اچھا تو تم طالبان ہو؟’

نیویارک پہنچی تو ایک دوست نے کہا مین ہیٹن میں ایک بہت اچھا ریستوران ہے وہاں ضرور جانا۔ میں بھی کام ختم کر کے دوست کے ساتھ نکل پڑی۔ صرف کھانا ہی نہیں بلکہ نیویارک معیشت، ثقافت، تعلیم، فلم اور فیشن سبھی کا مرکز مانا جاتا ہے۔

اسے گلوبل پاور سٹی کہا جاتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ امریکہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ٹائم سکوئر سے گزری تو جیسے تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہو۔ ہو بھی کیوں، لوگ اس موسم کا انتظار کرتے ہیں تاکہ چھٹی لے کر امریکہ ٹائم سکوئر کی رونق دیکھنے آ سکیں۔

ڈیجٹل بل بورڈز اور لوگوں کا ہجوم جیسے اس شہر کو کبھی سونے نہیں دیتے۔ آتے جاتے لوگ اپنی آبائی زبانوں میں باتیں کر رہے ہیں۔ امیر شہر کی ترقی کا اندازہ یہاں کی عالی شان اونچی اونچی عمارتوں اور دکانوں سے لگایا جا سکتا۔ راستے میں وہ رہائشی عمارت آئی جس کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ دنیا کے مہنگے ترین اپارٹمنٹ ہیں اور بیشتر کے مالک روسی باشندے۔ اندر جانے کا خیال آیا مگر سوچا کیا فائدہ دل جلانے کا۔

Comments are closed.

Scroll To Top