Home / Uncategorized / خواجہ سراؤں کے لیے قانون: ’سماجی دباؤ کے بجائے قدرت کے فیصلے کو تسلیم کریں‘
خواجہ سراؤں کے لیے قانون: ’سماجی دباؤ کے بجائے قدرت کے فیصلے کو تسلیم کریں‘

خواجہ سراؤں کے لیے قانون: ’سماجی دباؤ کے بجائے قدرت کے فیصلے کو تسلیم کریں‘

سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی ملک میں موجود تیسری صنف یعنی خوجہ سراؤں کے وجود کو تسلیم کرنے اور انھیں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے بل پاس کیا ہے۔ دا ٹرانسجینڈر پرسن پروٹیکشن آف رائٹس بل 2018 جو اب ملکی قانون کا حصہ بن چکا ہے کی تیاری میں ملک کی پہلی خواجہ سرا لیکچرر عائشہ مغل نیشنل ٹاسک فورس کا حصہ تھیں۔ 27 سالہ عائشہ نے بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے گفتگو میں اپنی کہانی شیئر کی۔

Comments are closed.

Scroll To Top