Home / Uncategorized / ’سرجیکل سٹرائیک‘ سے زندہ لوٹنا کتنا مشکل تھا؟
’سرجیکل سٹرائیک‘ سے زندہ لوٹنا کتنا مشکل تھا؟

’سرجیکل سٹرائیک‘ سے زندہ لوٹنا کتنا مشکل تھا؟

جب 29 ستمبر 2016 کو انڈیا کے فوجی آپریشن کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رنویر سنگھ نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ انڈیا نے سرحد پار انتہا پسندوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل سٹرائیکس کی ہے، تو پوری دنیا حیران رہ گئی۔

ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے ایل او سی کے پار ’سرجیکل سٹرائیکس‘ نہ کی گئی ہو، لیکن یہ پہلی بار تھا کہ انڈین فوج دنیا کو صاف بتا رہی تھی کہ واقعی اس نے ایسا کیا تھا۔

وجہ تھی انڈین فوج کے اوڑی کیمپ پر انتہا پسندوں کی طرف سے کیا جانے والا حملہ جس میں 17 انڈین فوجی مارے گئے اور دو فوجیوں کی بعد میں ہسپتال میں موت ہو گئی تھی۔

جیسے ہی خبر پھیلی دلی کے رائسینا ہِلز پر کارروائیاں تیز ہو گئیں۔ آناً فاناً انتہائی خفیہ ’وار روم‘ میں انڈیا کی سکیورٹی انتظامیہ کی خفیہ ملاقات بلائی گئی جس میں کم سے کم ایک ملاقات میں خود وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال شامل ہوئے۔

’انڈیاز موسٹ فئیرلیس – ٹرو سٹوریز آف ماڈرن ملٹری ہیروز‘ کے شریک مصنف راہل سنگھ بتاتے ہیں ’اس بارے میں ہم نے بہت سارے جنرلز اور سپیشل فورس کے حکام سے بات کی ہے اور ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس میٹنگ میں ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ انڈین فوج لڑائی کو دشمن کے علاقے میں لے جائے گی اور اس حملے پر انڈیا چپ نہیں بیٹھے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔‘

Comments are closed.

Scroll To Top