Home / Uncategorized / غالب کے اشعار سے سجی کولکتہ کی گلیاں
غالب کے اشعار سے سجی کولکتہ کی گلیاں

غالب کے اشعار سے سجی کولکتہ کی گلیاں

سچ تو یہ ہے کہ غالب کو ستائش کی تمنا بھی تھی اور صلے کی پروا بھی، اور انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے اشعار میں معنی نہیں جہان معانی آباد ہے۔

انڈیا میں غالب کی ان دنوں دھوم نظر آتی ہے۔ دہلی میں اگر غالب کی دلی سجائی جاتی ہے تو مغربی بنگال کے درالحکومت کولکتے میں مرزا غالب سٹریٹ ان دنوں اوراق مصور بنے ہوئے ہیں۔

اردو کے ایک متوالے اور غالب کے مداح مدور پتھریا نے اپنی جیب خاص سے مرزا غالب سٹریٹ کو اسم با مسمی بنانے کا عزم کیا ہے اور اس کے اثرات نمایاں ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top