Home / Uncategorized / ملالہ میں تم سے جلتی ہوں!
ملالہ میں تم سے جلتی ہوں!

ملالہ میں تم سے جلتی ہوں!

بہار اپنے جوبن پہ تھی، سڑکوں کے کنارے کھڑے درختوں نے اپنے زرد پتے کب کے جھاڑ دیے تھے اور اب ان کی شاخوں پہ زمردیں کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ نہر کے کنارے سنبلوں نے سرخ پھولوں سے آ گ سی لگا رکھی تھی۔ مال روڈ سے ریس کورس کے قطعات تک، رنگ اور خوشبو کا غدر سا بپا تھا۔

دل جلے شاعر اور متشاعر، سرِ شام ہی سے عشقیہ اور ڈیڑھ عشقیہ غزلیں، فیس بک پہ لگانے لگتے تھے، غرض راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا کہ اچانک ملالہ نے آ کے اس اہتمام میں کھنڈت ڈا ل دی۔ وہ دھیمی آنچ کا نامعلوم عشق، وہ ہجر کی تڑپ اور وصل کی لگن، نوروز کی سر شاری اور بہار کا خمار، یک بیک رفو چکر ہوئے۔

ان کی جگہ تپے تپے لہجے میں ملک و قوم کی حمیت اور عزت اور وقار کے سوال اٹھاتے، للکارتے، سوشل میڈیا مجاہدین کی فوج، لیپ ٹاپ اور سمارٹ فون سونت کر میدان میں نکل آ ئی۔ دوسری جانب، بے چارے لبرلز بھی اپنے اپنے لنڈے کے ’ری کنڈیشنڈ‘ ڈیسک ٹاپ اور ٹیبلٹ لیے جوابی جنگ میں مصروف ہو گئے۔

Comments are closed.

Scroll To Top