Home / Uncategorized / پانچ سو دسواں ہزارہ
پانچ سو دسواں ہزارہ

پانچ سو دسواں ہزارہ

حال ہی میں ایک ہزارہ خاتون نے سوشل میڈیا پر شکایت کی کہ اس سے ایک چیک پوسٹ پر غیرمناسب سوالات کیے گئے۔ ٹوئٹر پر موجود آدھے پاکستانی اسے لیکچر دینے لگے کہ ہمیں بھی روکتے ہیں، ہم تو شکایت نہیں کرتے۔ گذشتہ ہفتے کوئٹہ میں ایک ہزارہ دکاندار کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ایسی خبریں پڑھتے پڑھتے اور کچھ ٹوٹی پھوٹی رپورٹنگ کرتے ہوئے مزاج اتنا سنکی ہو گیا ہے کہ نہ مجھے قاتلوں پر غصہ آیا، نہ پولیس پر، نہ فوج پر۔ دل سے صرف یہ نکلا کہ او بھائی تو دکان پر گیا ہی کیوں تھا۔

Comments are closed.

Scroll To Top